چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ تین دن ہو گئے جو ہم پہ حملہ ہوا پنجاب حکومت بھی ہماری ہے ابھی تکFIR رجسٹرڈ نہیں ہوا

(کے جی نیوز ایف بی پیج ) اور ایف آئی آر کیونکہ رجسٹرڈ نہیں کرویا وہ کہتے ہیں وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے خلاف ہم ایف آئی آر درج کرسکتے ہیں لیکن وہ جو آرمی افسر جنرل فصیل ہے اس کہ خلاف ہم ایف آئی آر درج نہیں کرسکتے تو عمران خان نے کہا کہ ہم اپنے قوم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو قانون سے اوپر ہے کیا ہمارا قانون کہ اندر یہ اجازت دیتا ہے کہ ایک سابق وزیراعظم پاکستان کہے رہا ہے کہ یہ تین لوگ ملوث ہیں اور جب انکوائری ہوگئی تو پتہ چلے گا کہ یہ ملوث ہے یا نہیں لیکن پنجاب پولیس کی آئی جی کبھی کوئی وجہ دیتے اور سیدے سیدے کہتے ہیں کہ اگر آپ FIR کروتا ہے تو پھر کسی اور کو اودے پہ رک دے اور پھر ایف آئی آر کروادے کیونکہ کہ ہم کوئی طاقت ور روک رہا ہے ایف آئی آر سے عمران خان نے کہا ہمارا یہ حقیقی آزادی لانگ مارچ کا مطلب کیا ہے جو ہم نے 26 سال یہ تحریک چلائی اس کا مطلب یہ ہے جب معاشرے میں آزادی نہیں۔ جہاں قانون کی حکمرانی نہیں وہاں نہ معاشرے آزاد ہوتا ہے اور نہ عام آدمی کو انصاف ملتا ہے عمران خان نے کہا کہ مجھے حیرت اس بات کی ہوئی جب ڈ ی جی آئی ایس پی آر نے کیا کہ عمران خان نے ایک فوج کی افسر پہ الحظام لگایا ہے یہ ساری فوج کی بد نامی ہورہی عمران خان نے کہا کہ مجھے زرا حیرت اس پر ہوئی اگر میں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ایک آدمی نے کرپشن کی تو اس کا مطلب کہ ساری پی ٹی آئی کرپٹ ہےاس مطلب یہ نہیں ہے کہ ساری پی ٹی آئی کر پٹ ہے عمران خان نے کہا کہ آپ میں کورٹ مارشل کیونکہ ہوتا ہے کیونکہ کوئی غلطی کرتا ہے تو کورٹ مارشل ہوتے تو میں جب یہ کہے رہا ہوں کہ یہ تین لوگ ملوث کیونکہ مجھے پورا یقین ہے یہ میرا حق ہے اگر میں ایک سابق وزیراعظم ہوں میرا ایف آئی آر درج نہیں ہوتا تو باقی قوم کا کیا ہوگا اور سارے قانون سے اوپر عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا ہے اور یہاں جب عام آدمی کو انصاف نہیں ملتا وہ آزاد نہیں ہوتا ہے اور جس کو انصاف نہیں ملتا وہ غلام ہوتے ہیں غلام قوم اوپر نہیں جاسکتا جب تک اس کو انصاف نہ ملے گا اور پھر عمران خان نے کہا کہ شہباز شریف کہے کہ پول کیمشن کوٹ بنایا جائے تو اس پہ خوش آمدید کہتا ہوں لیکن پہلے یہ تین لوگ استعفیٰ دے اور پھر کیمشن بنایا جائے

Comments

Popular posts from this blog

بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ایک دہائی میں پہلی علاقائی حکومت منتخب ہوئی ہے۔ bhart ke zir qabzah kashmer min ek dhi min pehli alaqai hakomat mantakhab hoi hay.

پی ٹی آئی کا جلسہ اب 8 ستمبر کو اسلام آباد میں ہوگا۔